• info@aawaz.com

کامیابی کی کہانیاں

مساوی حقوق کی جدوجہد
عیسا ئیت پر ایمان رکھنے والی ۹ ۱سالہ آسیہ ضلع بہاولپور کی تحصیل یزمان کی رہائشی ہے ۔ وہ آوازکمیٹی اور آواز ترقیاتی تنظیم کی رکن بھی ہے۔آسیہ ایک عیسائی اکثریتی محلہ میں رہائش پذیر ہے جس کے اطراف ہندو اور مسلمان اکثریتی محلے آباد ہیں۔ وہ سمجھتی ہے کہ اس کی کمیونٹی سماجی محرومیوں کا سامنا کرتے ہوئے ترغیب اور اعتماد دونوں کے فقدان کا شکار نظر آتی ہے۔ تاہم وہ اپنے لوگوں کی مدد کے لیے، نہ صرف تعلیم کے ذریعہ بلکہ انہیں اپنے حقوق کی جدو جہد کے لیے منظم کرنے کے حوالے سے بھی، پر عزم ہے۔ ”پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ بڑی حد تک غیر مساوی سلوک روا رکھا جا تاہے۔ انہیں نچلے درجہ کی تعلیم سمیت اطلاع تک نہ ہونے کے برابر رسائی اور اوسط درجہ سے زیادہ کام کا بوجھ اٹھانے جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ دوسری جانب انہیں مراعات یافتہ طبقہ کی طرف سے سیاسی حوالوں سے شدید مسابقت کا بھی سامنا ہے،“ آسیہ کہتی ہے۔ اس کے مطابق ، آواز گروپ کا رکن بننے سے اس کا ایک دیرینہ خواب پورا ہوگیا۔ اب وہ جانتی ہے کہ اسے اپنی آواز کہاں اور کیسے بلند کرنی ہے۔ وہ نہ صرف چرچ میں پڑھاتی ہے بلکہ اپنے محلہ میں عیسائیوں اور ہندوﺅ ں کو متحرک اور منظم بھی کرتی ہے۔ آسیہ کہتی ہے کہ آواز کے اجلاسوں میں عوام الناس بشمول عورتوں کو چاہے وہ جوان ہوں یا عمر رسیدہ، شناختی کارڈ رکھنے کی اہمیت سمجھائی جاتی ہے ۔ آواز کمیٹی کی بدولت ، آسیہ اب تک نادرا کی جانب سے بھیجی گئی موبائل ریسورس وین کے ذریعہ300 لوگوں کے شناختی کارڈ بنوا چکی ہے۔ اس کے مطابق، لوگوں نے اب تک اپنے شناختی کارڈ بنوانے کا نہیں سوچا تھا کیونکہ انہیں معلوم ہی نہ تھا کہ وہ شناختی کارڈ کس طرح بنواسکتے ہیں۔ شناختی کارڈ وصول کرنے سے لوگوں میں ایک قسم کی شناخت اور ملکیت کا خیال جاگزیں ہوا۔ان لوگوں نے پہلی مرتبہ اپنے آپ کو پاکستان کا حصہ سمجھا جہاں وہ اپنے حقوق کا استعمال بطور پاکستانی شہری کر سکتے ہیں۔ بیشتر لوگ جو پہلے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے استفادہ نہیں کر سکتے تھے اب نئے شناختی کارڈ کی بدولت، اس پروگرام میں درخواست دینے کے اہل ہوئے اور ان میں سے دس افراد بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اپنا نام درج کرانے میں کامیاب بھی رہے۔ آسیہ کا کہنا ہے کہ ہندوﺅں میں چھوٹی عمر میں شادیاں اور وٹہ سٹہ عام سی بات تصور کی جاتی ہے۔ ان کو جب ان دو نوں رواجوں پر تنقیدی نقطہءنظر سے آگاہ کیا جا تا تو وہ برا مناتے تھے۔ تاہم ساؤتھ ایشیا پارٹنر شپ اور اس کے زیرِ اہتمام منعقد کیے جانے والے انٹر ایکٹیو تھیٹرکے ذریعہ ان موضوعات پر پیغام بہت سے لوگوں کے دلوں تک پہنچ گیا۔ آسیہ نے بتایا کہ ساؤتھ ایشیا پارٹنر شپ نے مقامی کہانیوں پر انحصار کرتے ہوئے اپنے تھیٹر کو مقامی لوگو ں کے لیے پیش کیا۔ ہندوکمیونٹی کے لوگ بھی اس تھیٹر کو دیکھنے کی غرض سے عیسائیوں کے ساتھ آ بیٹھے اور یہ تھیٹر کی ہی طاقت تھی کہ جس کی وجہ سے ان میں سے کئی لوگ آواز کمیٹی میں شامل ہوگئے۔ آسیہ کہتی ہے کہ آواز پروگرام ملنے والی آگاہی کی بدولت لوگ متحرک ہوئے۔ آسیہ کا مزید کہنا تھا کہ اب آواز کمیٹی اور آواز ترقیاتی تنظیم کے باقاعدہ اجلاسوں کی بدولت وہ لوگ ایک ساتھ بیٹھ کر مختلف مسائل پر بات چیت کرکے ان کے حل ڈھونڈنے کی سبیل کرتے ہیں۔ ” آواز کمیٹیاں اقلیتوں کے ساتھ دیرینہ تعاون کرتے ہوئے مصروفِ عمل ہیں اور ان اقدار کو پھیلانے میں یکسو ہیں جومعاشرے میں تمام لوگوں کی مساو ی شراکت کی ضمانت اورطاقت کے استعمال کو نئے معنی دیتی ہیں ۔“
جب دیواریں ناگزیر ہوں
چار سالہ شمیم اپنے والدین اور دو چھوٹے بہن بھائیوں کے ساتھ کوٹ ادو میں رہتی ہے ۔ وہ صبح چھ بجے اٹھتی ہے تاکہ اسکول جانے کے لیے تیار ہو سکے۔ اس کے لیے اسکول کا مطلب صرف پڑھائی نہیں بلک اپنی سہیلیوں کے ہمراہ ایک گھنٹہ کا پیدل سفر بھی ہے ۔ شمیم اور اس کی سہیلیاں اپنے اسکول سے بےحد پیار کرتے ہیں کیونکہ اس میں وسیع برآمدہ اور کلاس رومز ہیں جو ان کے اپنے گھروں سے بڑھ کر کشادہ و عریض ہیں ۔اسکول کی عمارت کی ایک جھلک ہی ان کے دو طرفہ پاپیادہ سفر کی تھکن بھلادینے کے لیے کافی ہے۔ ایک صبح جب بچے اسکول پہنچے تو مرکزی دروازہ کے سامنے اینٹوں کا ڈھیر دیکھ کر صدمہ کی کیفیت میں چلے گئے۔ وہ بمشکل اپنے اسکول کو شناخت کر پا رہے تھے ۔اسکول کی 831 فٹ چار دیواری ہر طرف اینٹوں کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکی تھی۔ گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول کی عمارت، ہر طرف سے تجارتی علاقہ میں گھری تھی اور اسی تجارتی علاقہ کے دکانداروں نے اسکول کی دیوارمنہدم کر کے زمین پر قبضہ جما لیا تھا۔ اس مسئلہ کو آواز کی دیہی کمیٹی کے اجلاس میں اٹھایا گیا۔ اگلے دن آواز کے جنرل سیکریٹری اور دیگر کمیونٹی ورکرز معاملہ کی چھان بین کی غرض سے اسکول پہنچے جہاں اسکول کی زمین پر قبضہ کے دعویدار لوگوں نے آواز ترقیاتی تنظیم کے جنرل سیکریٹری کووہاں بنائی جانے والی دکانوں میں سے ایک دکان رشوت کے طور پر پیش کی۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ اسکول کی اراضی صرف اسکول کے حساب سے کافی بڑھ چڑھ کر تھی لہذا یہاں اب 10 سے15 دکانیں تعمیر کی جائیں گی اور ہر دکان کی قیمت چار لاکھ روپے ہوگی۔ اسکول ٹیچر مسرت نے جب اس نا انصافی پر آواز بلند کی تو انہیں دھمکیاں دی گئیں کہ اگر وہ خاموش نہ ہوئیں تو ان کا تبادلہ کسی دور دراز علاقہ میں کرا دیا جائے گا۔ مسرت ان حربوں سے پریشان ہوئے بغیر نہ صرف آواز سے تعاون جاری رکھا بلکہ اسکول کے بچوں کو بھی اس نا انصافی پر احتجاج کے لیے منظم کیا۔ آواز ترقیاتی تنظیم کے کمیونٹی ارکان نے قبضہ گیروں سے دلیل کے ساتھ بات کرنا چاہی مگر وہ نہ مانے ۔ ان لوگوں نے اسکول ٹیچر مسرت کو بھی رشوت دینے کی نا کام کوشش کی۔ اس صورتِ حال میں آواز ترقیاتی تنظیم کے ارکان نے معاملہ پولیس تک لے جانے کا فیصلہ کیا اور بالآخر اسکول کی اراضی پر قبضہ کے خلا ف ایک ایف آئی آر درج کی گئی۔ پولیس آواز ترقیاتی تنظیم کے ارکان کے ہمراہ اسکول پہنچی اور قبضہ گیروں سے اسکول کے احاطہ میں پڑی اینٹیں اٹھا نے کا کہا۔ اس کام کی تکمیل کے بعد آواز ترقیاتی تنظیم کے ارکان نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سے ر ابطہ کر کے اسکول کے گرد چار دیواری دوبارہ تعمیر کروائی ۔ اسکول کا ایک بڑا برآمدہ تھا مگر چاردیواری نہ ہونے کے سبب بچے کھیل نہیں سکتے تھے مگر اب یہ دوبارہ ممکن تھا۔ شمیم اور دیگر بچے خوش ہیں کیونکہ اب وہ اسکول کی چار دیواری کے تحفظ کے ساتھ کھیل کود سکتے ہیں اور ان کی استانی مسرت اپنی شاگردوں اور آواز ترقیاتی تنظیم پر فخر کرتی ہیں جنہوں نے نہ صرف اسکول واپس حاصل کرنے میں مدد کی بلکہ اسکول کی چار دیواری کو بھی تعمیر کرکےآنے والی کئی نسلوں کا مستقبل محفوظ کردیا ہے۔
زمینی تنازعات
زمین سے متعلق جھگڑے نہ صرف سماجی انتشارکا باعث بنتے ہیں بلکہ کبھی کبھار انسانی جان کے ضیاع پہ بھی منتج ہوتے ہیں ۔کسی بھی ملک میں زمینوں کانظم و نسق چلانے اور زمین سے متعلق تنازعات کے حل کے لیے ایک لائق اور موثر نظام کی اشد ضررورت رہتی ہے ۔ بھائیوں کے درمیان زمین کے تنازعات پاکستان میں بہت عام سی بات ہے۔ ایسی صورتِ حال وقت گزرنے کے ساتھ بدتر ہو جاتی ہے اور اس سے جنم لینے والی نفرت اگلی نسلوں تک پہنچ جاتی ہے۔ ضلع مردان کی یونین کو نسل دیہی مردان کے رہائشی دو بھائیوں کے درمیان بھی کچھ اسی نوعیت کا تنازعہ پیدا ہو گیا۔ جھگڑے کی بنیادی وجہ 1632 مربع میٹر رقبہ کا ایک تجارتی پلاٹ تھا جو شاہراہ کے نکڑ پر واقع ہے۔ مذکورہ زمین دو سگے بھائیوں کے درمیان برابر ی کی بنیاد پر تقسیم تھی۔ اسحق کا دعوی تھا کہ زمین اس کی ہے کیونکہ وہ برسوں اس پلاٹ کی دیکھ بھال کرتا آیا ہے ۔دوسری طرف اس کے بھائی سلیم کا اصرار تھا کہ پلاٹ پر اس کا بھی برابر حق ہے۔ اس مسئلہ کی وجہ سے دونوں بھائیوں کے درمیان دشمنی ہو گئی اور دونوںکئی سالوں تک ایک دوسرے سے بات کرنے کے بھی روادار نہ رہے تھے۔ یہ مسئلہ اسحق کے24سالہ بیٹے عادل نے اٹھایا، جو آواز کا کمیٹی رکن بھی ہے ۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کا باپ ذیا بیطس کا مریض تھا اور اپنے بھائی کے ساتھ مستقل تلخی اور لڑائی کی کیفیت نے اس کی صحت پر مزید برے اثرات مرتب کرنے شروع کر دیے تھے۔ عادل نے بتایا کہ نہ اس کا باپ اور نہ ہی اس کا چچا ہار ماننے کو تیار تھے۔ آواز کمیٹی کا رکن ہونے کے ناطے، عادل حال ہی میں آواز کے زیرِاہتمام تربیتی ورکشاپ’ تنازعات میں نوجوانوں کے کردار’ میں شرکت کر چکا تھا۔ اس تجربہ نے اسے سوچنے پر مجبور کیا کہ وہ اپنے اس گھریلو مسئلہ کو روایتی پر تشدد طریقہ سے حل کرنے کی بجائے گفت و شنید کے ذریعہ حل کرنے کی تدبیر کرے۔ ایک اجلاس میں اس نے آواز کے ارکان سے اس سلسلے میں مدد چاہی ۔ آواز کی دیہی کمیٹی کے بیشتر ارکان مقامی جرگہ کے بھی ارکان تھے ۔ مردان میں روایتی جرگہ گاﺅں کے بزرگ افراد پر مشتمل ہوتا ہے اور گاؤں کے باسی جرگہ کے ارکان کی بڑی عزت کرتے ہیں ۔ آواز کمیٹی کے ارکان مذکورہ زمینی تنازعہ حل کرنے کی غرض سے دونوں بھائیوں کے پاس گئے اور دونوں کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ دونوںبھائی دراصل اس زمین کے برابر وارث اورحقدار ہیں۔ اس طرح کی کئی کوششوں کے بعد کہیں جا کر دونوں بھائی بالآخر صلح پر آمادہ ہوئے اور اس قطعہءاراضی کوآپس میں برابر تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا۔ عادل کا کہنا تھا کہ اس نوعےت کا تنازعہ کئی نسلوں تک چلتا ہے اور شاےد ہی کوئی تصفیہ بغیر خون بہائے ممکن ہوتا ہو۔اس کے خاندان میں زمین کا یہ تنازعہ تقریباً چھ سال سے جاری تھا جس کی وجہ سے دونوںگھرانوں میں ایک نوعیت کی دشمنی شروع ہو گئی تھی۔ عادل آواز کومسائل کے حل کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم سمجھتا ہے کیونکہ اس کے خیال میں یہ نہ صرف بیشتر مسائل کے حل میں مدد گار ثابت ہوا ہے بلکہ عادل کو اپنے تجربات آواز کے مختلف الخیال ارکان سے بانٹ کربہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے ۔ عادل کا کہنا تھا کہ آواز کے تحت دی جانے والی تربیت شرکاء میں ایک طرح کی خود اعتمادی پیدا کرتی ہے جو تباہ کن تنازعات سے بچنے کے لیے ایک غیر معمولی وصف فراہم کرتی ہے۔ عادل کہتا ہے کہ اس بات پر عمومی اتفاق پاگیاجاتا ہے کہ رشتہ داریوں سے جڑے معاشرے میں زمینی تنازعات کے حل کا کوئی بھی نظام مقامی ہونے کے ساتھ ساتھ معاشی حوالوں سے قابلِ برداشت بھی ہونا چاہیے جس کا انتظام سہل اور جس میں شرکت ممکن ہو ۔ سب سے بڑھ کر اسے گاﺅں کی عمومی حماےت بھی حاصل ہو۔” زمینی تنازعات کا حل لیکن ایک پیچیدہ عمل ہے تاہم آواز کمیٹی مقامی آبادی کی نمائندگی کی وجہ سے اس نوعیت کے تنازعات حل کرنے میں ایک نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔“
صحت کی سہولتوں میں بہتری
تحصیل مردان کی یونین کونسل باغ ارم کا رہائشی عثمان غنی آواز دیہی کمیٹی اور ترقیاتی تنظیم کا رکن ہے۔ اپنے محلے کے دیگر گھرانوں کی طرح عثمان کا خاندان بھی بنیادی صحت کے حوالے سے فراہم کی جانے والی ناکافی سہولتوں کی وجہ سے کئی پریشانیوں کا شکار ہے۔ ”صحت ایک بنیادی انسانی حق ہے جو کسی بھی انفر ادی زندگی کے اچھا ہونے اور معاشی ترقی اور نشونما کے لیے ناگزیر ہے۔ پانی اور نکاسی کے نظام سمیت سماجی خدمات کی طرح صحت بھی ہماری حکومت کی ترجیح میں شامل نہیں ،“ عثمان کہتے ہیں۔ عثمان کے مطابق ان کے علاقے میں صرف بنیادی صحت کی سہولتوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے بیشتر نومولود اور مائیں مر جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں کے ٹیکوں کے مراکز یونین کونسل سے کافی فاصلے پر واقع ہونے کے باعث والدین کو خاصی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ مسئلہ آواز ترقیاتی تنظیم کے ایک اجلاس میں اٹھانے پر بتایا گیا کہ زمین دستیاب نہ ہونے کے باعث علاقے میں بنیادی صحت کا کوئی مرکز بنانا ممکن نہیں ۔ ایسی صورتحال میں ایک تنظیمی رکن نے تقریباً 4080مربع فٹ زمین اس عظیم مقصد کے لیے عطیہ کی۔ مارکیٹ میں اس علاقہ میں زمین کی قیمت تقریباً ایک لاکھ روپے فی مربع فٹ ہے۔ آواز کے ارکان نے ضلعی ہیلتھ آفیسر کو ، جو خود بھی آواز ڈسٹرکٹ گروپ کے رکن ہیں ، ایک درخواست لکھی جس میں مفت بنیادی طبی مرکز کی تعمیر کا مطالبہ کیا گیا۔ موجودہ جگہ تعمیر کیا جانے والا بنیادی صحت کا مرکز آج تمام طبی سہولتیں مفت فراہم کر نے کے ساتھ ساتھ بیماریوں سے بچاﺅ کے ٹیکے بھی لگا رہا ہے جس سے مقامی بچوں کی صحت خاطرخواہ بہتر ہوئی ہے۔ عثمان کا کہنا ہے کہ آواز پروگرام پاکستان جیسے ملک کے لیے ، جہاں طبی سہولتوں کی فراہمی ایک بنیادی مسئلہ کے طور پر نہایت اہمیت کا حامل ہے ، بہت زیادہ مطابقت رکھتا ہے اور یہ دیہی علاقوں کے لیے خاص طوردرست ہے جہاں ان سہولتوں تک پہنچنا اور اس حوالے سے اخراجات برداشت کرنا دونوں ہی بڑے سنگین مسائل شمار ہوتے ہوں۔“ عثمان کہتے ہیں۔
خلع
فہمیدہ بیگم اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ تحصیل تخت بائی کے گاﺅں پت بابامیں رہائش پذیر ہیں ۔ ایک ایسے علاقے میں جہاں عورتوں کی حیثیت ایک شے کی سی ہے جو تنازعات کے تصفیے اور جانوروں کے تبادلے کی صورتوں میں فروخت کی جاتی ہیں، فہمیدہ بیگم عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرتی ہیں اور آواز ترقیاتی تنظیم کی ایک فعال رکن ہیں۔ ایک دن ایک چودہ پندرہ سالہ لڑکی نے ان کے گھرکا دروازہ کھٹکھٹایا۔ دہلیز پہ کھڑی لڑکی بری طرح سہمی ہو ئی اور بولنے سے قاصر تھی۔ فہمیدہ اسے مہمان خانہ میں لے گئی اور اس سے اس کے گھر بار کامعلوم کرنا چاہا مگر کچھ کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ فہمیدہ اور اس کے شوہر نے لڑکی کو تقریباًایک ہفتہ اپنے گھر رکھا اور اس عرصہ میں اس کے والدین کی بابت دریافت کرتے رہے ۔بالآخر ایک دن اس نے بتایا کہ اس کا نام وجیہت ہے اور وہ پڑوسی گا ﺅں کی رہا ئشی ہے۔ بعد ازاں دیگر لوگوں سے دریافت کرنے پر انہیں معلوم ہوا کہ اس لڑکی کی شادی ایک ستر سالہ شخص سے ہوچکی ہے۔ فہمیدہ نے لڑکی کو بتایا کہ انہیں اس کے گھر کا پتہ مل گیا ہے اور وہ جلد ہی اپنے خاوند کے پاس ہوگی۔ اس خبر نے لڑکی کی خاموشی توڑی اور اس نے روتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے گھر سے فرار ہو کر آئی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کا شوہر جو اس کی بہن کا سسر بھی ہے اس پر تشدد کرتا تھا۔وجیہت اپنی بہن کے سسر کی جنسی زیادتی کا نشانہ بننے کے باعث حاملہ ہوگئی تھی، لہذا اس کے والدین نے شرمندگی سے بچنے کے لیے اس کی شادی اسی 70سالہ شخص سے کر دی۔ وجیہت نے فہمیدہ کو بتایا کہ وہ اس شخص کے ساتھ نہ صرف رہنا نہیں بلکہ اس سے طلاق بھی چاہتی ہے۔اس مسئلہ کو آواز کی میٹنگز میں اٹھایا گیا۔وجیہت نے خود بھی آواز ترقیاتی تنظیم کی کئی میٹنگز میں شرکت کی اور اپنے بنیادی حقوق کی بابت آگاہی حاصل کی۔ آواز کے پلیٹ فارم سے وجیہت کو مقامی عورتوں کے ساتھ بیٹھ کر اپنے حقوق اور زیادتیوں پر سچائی کے ساتھ بات کرنے کا موقع ملا۔ آواز کمیٹی کے ارکان نے کوشش کی کہ وجیہت کا شوہر اسے طلاق دے مگر اس کا کہنا تھا کہ اس کا تعلق ایک ’ عزت دار ‘ خاندان سے ہے لہذا طلاق دینے کی کوئی گنجائش نہیں اور لڑکی کو اس کے ساتھ ہی رہنا ہوگا۔ آواز ارکان نے آواز ڈسٹرکٹ گروپ میں موجود وکیل سے مشورہ کیا جنہوں نے عورت کا اپنے خاوند سے طلاق حاصل کرنے کا حق یعنی خلع کے حوالے سے ان کی رہنمائی کی۔ وجیہت کا شوہر اپنی بچی کو اپنی بیوی کی تحویل میں دینے پر بھی آمادہ نہ تھا۔ یہاں آواز کمیٹی کے ارکان نے پھر مداخلت کی اور اسے باور کرایا کہ یہ ایک ماں کا حق ہے کہ بچی اس کے ساتھ رہے۔ کافی کوششوں کے بعد کمیٹی ارکان کو اس مسئلہ میں کامیابی نصیب ہوئی۔ وجیہت کو عدالت سے خلع مل گئی اور اپنی بیٹی کو اپنے ساتھ رکھنے کی اجازت بھی۔ اب وہ ایک گھر یلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی ہے۔اپنے حقوق کے حوالے سے ملنے والی مناسب رہنمائی کے باعث آج وہ ایک تشدد سے آزاد زندگی گزاررہی ہے۔ وجیہت کا کہنا ہے کہ ا س معاشرہ میں کم عمری کی شادیاں ،باوجود اس حقیقت کہ کئی قسم کے خطرات کا باعث ہوتی ہیں، عام ہیں کیونکہ لوگ بہت غریب اور بیشتر ان پڑھ ہیں۔ روایات مثلاًجہیز، جو دلہن کے کم عمر اور ان پڑھ ہونے کی صورت میں کم دینا پڑتا ہے، عورتوں اور لڑکیوں کاسماجی شعور، شادی کے لیے عمر کے حوالے سے رویے اورلڑکیوں کے گھر سے بھاگ جانے کا خوف وغیرہ ، کم عمری میں کی جانے والی شادیوں کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔ ِوجیہت کے مطابق ایک شادی شدہ لڑکی بہت سے خطرات سے محفوظ سمجھی جاتی ہے کیونکہ ایسی صورت میں یقین کر لیا جاتا ہے کہ اس کا شوہر اس پر نظر رکھنے کے لیے موجود ہے۔ آواز کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے وجیہت نے کہا کہ ان کی وجہ سے عورتوں سے اپنے مسائل پر بات کرنا اور اپنے بنےادی حقوق کے حوالے سے رہنمائی کا حصول آسان ہوگیا ۔’ آواز کمیٹی کا حصہ بننے سے قبل مجھے علم نہیں تھا کہ بحیثیت عورت میرے کچھ حقوق بھی ہیں اور یہ بھی کہ ایک دن میں اپنی بے جوڑ شادی کے مجبور بندھن سے کسی طرح آزاد ی حاصل کر سکوں گی’۔
تبدیلی کا سفر
امیر جماعت اسلامی پاکستان سیدمنور حسن نے جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سیکرٹری جنرل علی احسن دانش بی بی ضلع ایبٹ آباد کی یونین کونسل کتھوال کی رہائشی اور آواز ترقیاتی تنظیم کی رکن ہے۔ آواز میں شمولیت کے وقت انہوں نے بارہویں جماعت پاس کی تھی۔ آواز ڈسٹرکٹ گروپ کے ارکان سے ملاقاتوں اور مختلف تربیتوں سے گزرنے کے بعدانہوں نے اپنی پڑھائی مزید جاری رکھنے کا فیصلہ کیااور آج کل وہ پرائیویٹ بی۔اے کی تیاری کر رہی ہیں۔ ” تعلیم انفرادی ترقی کا باعث بنتی ہے اور انفرادی حقوق کے حوالے سے آگاہی بھی پیدا کرتی ہے،“ دانش بی بی کہتی ہیں۔ دانش بی بی کا تعلق ایک ایسے علاقہ سے ہے جہاں بچیوں کی چھوٹی عمر میں شادی کر دی جاتی ہے اور شرح خواندگی بہت حدتک کم ہے۔گھر سے باہر سیاسی اور سماجی سرگرمیوں میں شرکت کے تقریباً نہ ہونے کے برابر مواقع کے ساتھ عورتیں زےادہ وقت اپنے گھروں میں گزارتی ہیں۔ سرکاری اداروں ، پروگرامز، اور سرکاری سہولتوں سے ان کا رابطہ اور استفادہ، ماسوائے فیملی پلاننگ اور بنےادی صحت کی گھر گھر کی جانے والی مہم، تقریباً نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ 23سالہ پر اعتماد خاتو ن دانش بی بی کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی سیاست میں آنے کا نہیں سوچا تھا مگر آج وہ تحصیل کی سطح پر ایک سیاسی جماعت کی سیکریٹری جنرل ہیں۔ اپنی سیاست میں آمد کاتذکرہ کر تے ہوئے ان کا چہرہ فرط مسرت سے جگمگارہا تھا۔ دانش بی بی نے آواز کے زیر اہتمام ایک بجٹ سائیکل پر منعقدہونے والی تربیت میں شرکت کی جہاںضلعی فورمز بھی اس تربیتی پروگرام کا حصہ تھے۔ اس نوعیت کی تر بیت کے دوران ایک غیررسمی اجلاس میں دانش نے آواز ڈسٹرکٹ گروپ کے ایک رکن سے، جو ایک سیاسی جماعت سے وابستہ بھی تھا، اپنی سیاست میں حصہ لینے کی خواہش ظاہر کی۔ ”اگلی جو چیز مجھے یاد ہے وہ یہ کہ مجھے جنرل سیکریٹری کے عہدہ کا فارم پر کرنے کی خاطر دیا گیا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ میری خواہش اتنی جلد پوری ہو جائے گی،“ دانش بی بی نے بتایا ۔ وہ بہت خوش تھی جب اسے پتہ چلا کہ تحصیل کی سطح پر اسے جنرل سیکریٹری کے لیے چن لیاگیا ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ عورتوں کے سیاست میں حصہ لینے کی وجہ سے خواتین کی سیاسی خودمختاری کا عمل تیز تر ہوگا۔ ا پنی زندگی میں دانش نے کبھی الیکشن میں ووٹ نہیں دیا تھا مگر 2013ء کے انتخابات میں نہ صرف یہ کہ انہوں نے ووٹ دیابلکہ اپنی کمیونٹی کے ایک فعال رکن کی حیثیت سے آواز کے تحت منعقد کیے گئے ووٹ ڈالنے کے تربیتی پروگرام کے بارے میں آگہی پھیلانے میں بھی مدد دی۔ ” ہم بہت سے دوسرے گاؤں گئے جہاں آواز کا وجود نہیں تھا ۔ ہم نے وہاں عورتوں کو ان کے ووٹ ڈالنے کے حق کی بابت آگاہ کیا اور فرضی ووٹ ڈالنے کی کئی مشقیں کرائیں۔’’ دانش بی بی کہتی ہیں۔ دانش بی بی آج کل سیودی چلڈرن نامی تنظیم کے ساتھ بطور کمیونٹی ورکر کام کر رہی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ بیشتر گھرانے ان پر اعتما د کرتے ہیں اور ان کے والدین بھی اب ان کی جلدی شادی کرنے کے بجائے تھوڑا مختلف سوچ رہے ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ انہیں اپنے والدین کی بے انتہا مدد حاصل رہی ہے اور وہ دونوں بھی آواز ترقیاتی تنظیم کے اجلاس میں شرکت کرتے رہے ہیں۔ دانش بی بی کے مطابق آواز ترقیاتی تنظیم کے اجلاس ایک ایسا مرکز ِ مباحثہ فراہم کرتے ہیں جہاں عورتوں کے مسائل مثلاً اپنی پسند کے سیاسی امیدوارکی حمایت ، گھریلو تشدد جیسے معاملہ پر احتجاج ،طلاق اور ترک کر دینے سمیت غیرمنصفانہ اجرت اور نرخ ، امدادی سامان میں خرد برد، اورپولیس سمیت دیگر سرکاری عہدیداروں کے ظالمانہ رویے ، زیرِغور آتے ہیں ۔ دانش بی بی سمجھتی ہیں کہ عورتوں کا کردار ابھی تک مر د وں کے مقابلہ میں غیرمساوی ہے مگر تعلیمی ترقی ،بہتر صحت وزندگی اور منظم شعبہ میں خواتین کی ملازمت کے بڑھتے ہوئے رجحان نے اس صورتِ حال میں بہتری پیدا کی ہے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ عورتوں کو بہت خود مختار ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ آواز جیسے پروگرام نہ صرف معاشرہ میں شعور بیدارکرنے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں بلکہ وہ حلقے بھی فراہم کرتے ہیں جو بہتری کی جانب گامزن ہر شخص کو درکار ہے ۔

 

AAWAZ is a DFID-funded, five-year Voice and Accountability programme to strengthen civil Society

Send a Message

verification code

Contact us

AAWAZ
56 G, 3rd Floor, Beverly Centre, Blue Area, Islamabad, Pakistan
P: +92 51 831 1891 - 4,
F: +92 51 874 0177
E: info@aawaz.org.pk
W: www.aawaz.org.pk

© 2014, Allright reserved by AAWAZ.
My web solution